- السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
https://youtu.be/FcXaPdWzBNQ
شہادت والی انگلی کی ضرب شیطان پر لوہےسےبھی زیادہ
۔┄┅════════════════════════┅┄
عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاةِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ "
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دوران نماز (تشہد میں) بیٹھتے تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ اپنی نظر بھی اسی انگلی پر رکھتے۔ پھر فرماتے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا تھا: ’یہ شہادت والی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی سخت پڑتی ہے۔
[الحكم: إسناده حسن رجاله ثقات عدا كثير بن زيد الأسلمي وهو صدوق يخطئ]
شیخ البانی رحمہ اللہ بھی اسے صفة الصلاة میں لے کر آئے ہیںأحمد بن حنبل، المسند، 2: 119، رقم: 600، مصر: مؤسسة قرطبة
۔┄┅════════════════════════┅┄
عَن وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بهَا. ( رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي )
سیدنا وائل ابن حجر (رضی اللہ عنہ) ( نبی کریم کی نماز کی تفصیل بتاتے ہوئے ) فرماتے ہیں کہ " پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سجدے سے سر اٹھا کر اس طرح) بیٹھے (کہ) اپنا بایاں پاؤں تو بچھا لیا اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں ران پر دائیں کہنی الگ رکھی (یعنی کہنی کو ران پر رکھتے وقت اسے پہلو سے نہیں ملایا) اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب والی انگلی) بند کر کے حلقہ بنایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کی انگلی اٹھائی اور میں نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس انگلی کو حرکت دیتے تھے اور اس سے دعاء کرتے تھے۔ " (سنن ابوداؤد، دارمی)
(مشکوٰۃ المصابیح )
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَعَقَدَ ثَلَاثًا وَخمسين وَأَشَارَ بالسبابة ‘‘
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تلِي الْإِبْهَام يَدْعُو بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ امام الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے ہی تشہد (یعنی التحیات) میں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنے داہنے گھٹنے پر رکھتے تھے اور اپنا (داہنا) ہاتھ مثل عدد تریپن کے بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔
اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ " جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ( کے قعدہ) میں بیٹھتے ہی دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے اور داہنے ہاتھ کی اس انگلی کو جو انگوٹھے کے قریب ہے۔ (یعنی شہادت کی انگلی کو) اٹھاتے اور اس کے ساتھ دعا مانگتے ، اور بایاں ہاتھ اپنے زانو پر کھلا ہوا رکھتے۔ " (صحیح مسلم)
اس حدیث شریف میں لفظ (إِذَا قَعَدَ ) کا مطلب واضح ہے کہ تشہد کیلئے بیٹھتے ہی انگشت شہادت اٹھالیتے
اور (يَدْعُو بِهَا ۔ اسی کے ساتھ دعاء کرتے ) کا مطلب ہے کہ آخر تک انگشت مسلسل کھڑی رکھتے اور ہلاتے رہتے ؛
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄
📱📚 *دینی نصیحت* 👇https://youtu.be/FcXaPdWzBNQ
┄┄┅┅✪❂✵🔵✵❂✪┅┅┄┄
Comments