*پہلی قسط (١)*
*🌱بسم اللہ الرحمن الرحیم 🌱*
🌸السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
🌸 *ذو الحجہ کے ابتدائی 10 دنوں کی فضیلت*
📚 *جابر رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : *"أفضل أيام الدنيا أيام العشر"* دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں *[مسند بزار (كشف الاستار 2/28، ح: 1128) اسے علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ [صحیح الجامع الصغیر/ح: ۱۱۳۳].*
*📌قارئین کرام!* ہم پر ذو الحجہ جیسا فضیلت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، یہ بہت ہی عظمت اور برکت والا مہینہ ہے، خاص کر اس کے ابتدائی دس دنوں کی قرآن وحدیث میں بہت سے فضائل آئے ہوئے ہیں مذکورہ بالا حدیث میں ذو الحجہ کے ابتدائی 10 دنوں کو دنیا کے سب سے افضل ترین دن قرار دیا گیا ہے آئیے مزید فضيلتیں معلوم کرتے ہیں :
📌1) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان دنوں کی قسم کھائی ہے ارشاد ہے: *{وَالْفَجْرِ،وَلَيَالٍ عَشْرٍ}* قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی *(سورۃ الفجر: ١ - ٢)* ان دس راتوں سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں *[تفسیر طبری وابن کثیر ].*
2) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ انہیں دنوں میں اللہ تعالی نے اپنے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمتوں کا اتمام فرمایا : فرمان باری تعالیٰ ہے: *{الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا}* آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا، اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا،اور تمھارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا *(سورۃ المائدة: ٣)* اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک بار ایک یہودی عالم نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی کتاب قرآن مجید میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم یوم نزول کو عید بنالیتے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ہے؟ جمعہ کے دن میدان عرفات میں نازل ہوئی ہے *(صحیح بخاری :٤٣٣٠ ،صحيح مسلم ).*
3) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ ان دنوں میں ہر قسم کی عبادات جیسے نماز، روزے، زکاۃ ،قربانی اور حج وغیرہ جمع ہیں *حافظ ابن حجر رحمہ اللہ* فرماتے ہیں کہ :"عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت و برتری کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نماز، روزہ، زکاۃ اور حج جیسی اساسی عبادات جمع ہوجاتی ہیں جبکہ دوسرے دنوں میں ایسا نہیں ہوتا " *[فتح الباری ٢/٤٦٠].*
4) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ ان دنوں کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک منٹ اور ایک ایک سکنڈ انتہائی قیمتی ہے، ان دنوں کے اعمال اللہ رب العزت کے پاس بہت زیادہ محبوب ہیں اللہ کی جانب سے یہ وہ خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر) ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں حاصل نہیں ہے، یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے، *ابن عباس رضی اللہ عنہما* سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : *«مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»*«عشرۂ ذوالحجہ میں کئے گئے عمل صالح اﷲ کو جس قدر زیادہ محبوب ہیں اتنا کسی اور دن میں نہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: حتی کہ جہاد فی سبیل اﷲ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلا لیکن کچھ بھی لے کر واپس نہیں ہوا» *(صحيح بخاری :٩٢٦).*
5) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ انھیں میں سے ایک دن عرفہ کا بھی دن ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے: *«مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ, وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِم الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟»* «عرفہ کے دن سے زیادہ اﷲ تعالیٰ کسی اور دن جہنم سے آزادی نہیں عطا فرماتا، اﷲ تعالیٰ قریب ہوتا ہے پھر ان(عرفہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں) کے ذریعہ اپنے فرشتوں سے فخر کرتا ہے اور کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟» *(صحیح مسلم کتاب الحج، باب فی فضل الحج العمرہ و الیوم عرفہ).* نیز اس دن کے روزہ کے سلسلہ میں ارشاد ہے : *«صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اﷲِ أَن يُّکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَہُ»* «صوم عرفہ سے متعلق مجھے اﷲ تعالی سے امید ہے کہ سال گذشتہ اور آئندہ کا کفارہ ہوجائے گا» *(صحیح مسلم کتاب الصیام ).*
6) ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ ان کا دسواں اور آخری دن یوم النحر ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے: *«إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ»* «بے شک اللہ تعالی کے یہاں تمام دنوں سے عظیم ترین دن یوم النحر (قربانی کادن) ہے، پھر اس کے بعد والادن» *(سنن ابو داؤد :١٧٦٥)* یوم النحر وہ دن ہے جس میں حج کے بیشتر اعمال انجام دیئے جاتے ہیں، اس دن جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنا ہے، قربانی کرناہے، سرکے بال کٹوانا یا منڈاناہے، طواف زیارت اور سعی کرنی ہے، ایسے ہی اس دن سارے مسلمان بقرعید مناتے ہیں، عید کی دورکعتیں پڑھتے،قربانی کرتےہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں.
بہرکیف عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل بہت ہیں ، ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان مبارک دنوں کو غنیمت سمجھے، انھیں یوں ہی ضائع ہونے سے بچائے، ان میں ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی تگ ودو کرے.
🤲🏻اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ان مبارک ساعتوں میں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین.
استفادہ أز : عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل و احکام، عبدالہادی عبدالخالق
*(جاری)*
●❯───────────❮●
*📚🌹اردو نصیحتیں🌺*
●❯───────────❮●
*📜☜ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں*
📱+917275339034
📱+919579467085

Comments