*پہلی قسط(١)*
🍀بسم الله الرحمن الرحيم🍀
☘️السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
*🪐قیامت کی علامتیں /نشانیاں 🪐*
📌 *{فَهَلۡ یَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِیَهُم بَغۡتَةࣰۖ فَقَدۡ جَاۤءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَاۤءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ}* تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟ *(سورةمحمد : ١٨)*.
📌 *عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ* سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام صحابہ کرام کی موجودگی میں ایک اجنبی آدمی کی شکل میں رسولﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا:... *أَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ* مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: *"مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ"* جس سے پوچھا جا رہا ہے، وہ اس بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، پھر جبرئیل علیہ السلام نے کہا : *فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا* تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئیے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: *"أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ"* اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن، محتاج، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر و مباہات کریں گے *(صحیح مسلم)*.
📌 *قارئین کرام!* ابھی میں نے آپ کے سامنے ایک آیت کریمہ اور حدیث جبرئیل کا ایک ٹکڑا پیش کیا ہے جس میں قیامت اور اس کی علامتوں کا ذکر پایا جاتا ہے، إن شاء اللہ اس کی روشنی میں ہم آج سے *أشراط الساعة* یعنی قیامت کی علامتوں اور نشانیوں کے بارے میں دروس شروع کریں گے مگر اس سے پہلے کچھ تمہیدی اور بنیادی باتیں آپ کے سامنے رکھنا مناسب سمجھتا ہوں.
📌 *قارئین کرام!* دین اسلام کے مسلمہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل اور صحیح نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حشر و نشر، بعث بعد الموت، حساب و کتاب، قیامت اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھے فرمان باری تعالیٰ ہے : *{لَّیۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ وَٱلۡكِتَـٰبِ وَٱلنَّبِیِّـۧنَ}* نیکی اور بھلائی کی راہ یہ نہیں ہے کہ تم نے مشرق ومغرب کی طرف منھ پھیر لیا نیکی کی راہ تو ان لوگوں کی راہ ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں *(سورة البقرة :١٧٧)*
فرمان نبوی ﷺ ہے : *"الإيْمَانُ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ "* ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور تقدیر کے بھلے یا برے ہونے پر ایمان لاؤ" *(صحيح مسلم) .*
*📌قیامت کا آنا برحق ہے:* یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ قیامت کا آنا برحق ہے فرمان باری تعالیٰ ہے : *{وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِیَةࣱ لَّا رَیۡبَ فِیهَا وَأَنَّ ٱللَّهَ یَبۡعَثُ مَن فِی ٱلۡقُبُورِ}* اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا *(سورة الحج :٧)* بلکہ یہ بات قرآن میں اتنی تاکید کے ساتھ مذکور ہے کہ کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا فرمان باری تعالیٰ ہے : *{وَقَالَ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ لَا تَأۡتِینَا ٱلسَّاعَةُۖ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّی لَتَأۡتِیَنَّكُمۡ عَـٰلِمِ ٱلۡغَیۡبِۖ}* کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ کہہ دیجیئے! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وه یقیناً تم پر آئے گی *(سورة سبأ:٣)*
*📌قیامت بہت ہی قریب ہے :* اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقیقت بھی واضح فرمادیا ہے کہ قیامت بہت ہی قریب ہے فرمان باری تعالیٰ ہے *:{ٱقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِی غَفۡلَةࣲ مُّعۡرِضُونَ}* لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں *( سورة الأنبياء :١)* اور ایک جگہ فرمایا: *{یَسۡـَٔلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِۚ وَمَا یُدۡرِیكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِیبًا}* لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو *(سورة الأحزاب :٦٣)* اور *(سورة المعارج :٦،٧)* میں فرمایا کہ *{إِنَّهُمۡ یَرَوۡنَهُۥ بَعِیدࣰا،وَنَرَىٰهُ قَرِیبࣰا}* بیشک یہ اس کو دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں". بلکہ نبی کریمﷺ نے اپنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرمایا کہ : *"بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ"* میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو انگلیوں کے برابر فاصلہ ہے. *(صحیح بخاری :٤٩٣٦)* اور ایک حدیث میں اپنی موت کو قیامت کی نشانی بتلایا ہے *(صحیح بخاری ) .*
*مزید باتیں آئندہ درس میں آئیں گی إن شاء الله.*
🤲اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قیامت کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین).
Comments